EN हिंदी
شیخ ظہور الدین حاتم شیاری | شیح شیری

شیخ ظہور الدین حاتم شیر

235 شیر

اس قدر کی صرف تسخیر پری رویاں میں عمر
رفتہ رفتہ نام میرا اب پری خواں ہو گیا

شیخ ظہور الدین حاتم




اس زمانے میں نہ ہو کیوں کر ہمارا دل اداس
دیکھ کر احوال عالم اڑتے جاتے ہیں حواس

شیخ ظہور الدین حاتم




عشق ہے دار الشفا اور درد ہے اس کا طبیب
جو نہیں اس مرض کا طالب سدا رنجور ہے

شیخ ظہور الدین حاتم




عشق کی راہ میں میں مست کی طرح
کچھ نہیں دیکھتا بلند اور پست

شیخ ظہور الدین حاتم




عشق نے کشور دل لوٹا ہے
آ کے آباد کرو بندہ نواز

شیخ ظہور الدین حاتم




عشق اس کا آن کر یک بارگی سب لے گیا
جان سے آرام سر سے ہوش اور چشموں سے خواب

شیخ ظہور الدین حاتم




عشق بازی بو الہوس بازی نہ جان
عشق ہے یہ خانۂ خالہ نہیں

شیخ ظہور الدین حاتم




اتنا میں انتظار کیا اس کی راہ میں
جو رفتہ رفتہ دل مرا بیمار ہو گیا

شیخ ظہور الدین حاتم




جا بھڑاتا ہے ہمیشہ مجھے خوں خواروں سے
دل بغل بیچ مرا دشمن جاں ہے گویا

شیخ ظہور الدین حاتم