اس قدر کی صرف تسخیر پری رویاں میں عمر
رفتہ رفتہ نام میرا اب پری خواں ہو گیا
شیخ ظہور الدین حاتم
اس زمانے میں نہ ہو کیوں کر ہمارا دل اداس
دیکھ کر احوال عالم اڑتے جاتے ہیں حواس
شیخ ظہور الدین حاتم
عشق ہے دار الشفا اور درد ہے اس کا طبیب
جو نہیں اس مرض کا طالب سدا رنجور ہے
شیخ ظہور الدین حاتم
عشق کی راہ میں میں مست کی طرح
کچھ نہیں دیکھتا بلند اور پست
شیخ ظہور الدین حاتم
عشق نے کشور دل لوٹا ہے
آ کے آباد کرو بندہ نواز
شیخ ظہور الدین حاتم
عشق اس کا آن کر یک بارگی سب لے گیا
جان سے آرام سر سے ہوش اور چشموں سے خواب
شیخ ظہور الدین حاتم
عشق بازی بو الہوس بازی نہ جان
عشق ہے یہ خانۂ خالہ نہیں
شیخ ظہور الدین حاتم
اتنا میں انتظار کیا اس کی راہ میں
جو رفتہ رفتہ دل مرا بیمار ہو گیا
شیخ ظہور الدین حاتم
جا بھڑاتا ہے ہمیشہ مجھے خوں خواروں سے
دل بغل بیچ مرا دشمن جاں ہے گویا
شیخ ظہور الدین حاتم

