گھر بہ گھر ہے وہ مست عشوہ و ناز
در بدر ہم خراب ہوتے ہیں
شیخ ظہور الدین حاتم
گلشن دہر میں سو رنگ ہیں حاتمؔ اس کے
وہ کہیں گل ہے کہیں بو ہے کہیں بوٹا ہے
شیخ ظہور الدین حاتم
حاجت چراغ کی ہے کب انجمن میں دل کے
مانند شمع روشن ہر ایک استخواں ہے
شیخ ظہور الدین حاتم
ہاتھ آتا نہیں بغیر نصیب
پاؤں پھیلا کے سو ہوا سو ہوا
شیخ ظہور الدین حاتم
ہاتھ میں دیکھ کر ترے مرہم
میرے سینے کا داغ ہنستا ہے
شیخ ظہور الدین حاتم
حاتمؔ اس ظالم کے ابرو کو نہ چھیڑ
ہاتھ کٹ جاوے گا اے ناداں ہے تیغ
شیخ ظہور الدین حاتم
حاتمؔ اس زلف کی طرف مت دیکھ
جان کر کیوں بلا میں پھنستا ہے
شیخ ظہور الدین حاتم
ہے عبث حاتمؔ یہ سب مضمون و معنی کا تلاش
منہ سے جو نکلا سخن گو کے سو موزوں ہو گیا
شیخ ظہور الدین حاتم
ہے کبھو دل میں کبھو جی میں کبھو آنکھوں کے بیچ
کون کہتا ہے اسے یارو کہ ہرجائی نہیں
شیخ ظہور الدین حاتم

