حق سے ملنا گیروے کپڑوں اوپر موقوف نئیں
دل کے تئیں رنگو فقیری یہ ہے اور سب ہے لباس
شیخ ظہور الدین حاتم
ہستی سے تا عدم ہے سفر دو قدم کی راہ
کیا چاہیئے ہے ہم کو سر انجام کے لیے
شیخ ظہور الدین حاتم
ہولی کے اب بہانے چھڑکا ہے رنگ کس نے
نام خدا تجھ اوپر اس آن عجب سماں ہے
شیخ ظہور الدین حاتم
حسن آئینہ فاش کرتا ہے
ایسے دشمن کو سنگسار کرو
شیخ ظہور الدین حاتم
الٰہی تجھ سے اب کہتا ہے حاتمؔ اس زمانے میں
شرم رکھنا بھرم رکھنا دھرم رکھنا کرم رکھنا
شیخ ظہور الدین حاتم
ان دنوں ہم سے جو وحشی کی طرح بھڑکو ہو
یہ تو ملنے کا تمہارے کبھو اسلوب نہ تھا
شیخ ظہور الدین حاتم
ان دنوں سب کو ہوا ہے صاف گوئی کا تلاش
نام کو چرچا نہیں حاتمؔ کہیں ایہام کا
شیخ ظہور الدین حاتم
اس دکھ میں ہائے یار یگانے کدھر گئے
سب چھوڑ ہم کو غم میں نہ جانے کدھر گئے
شیخ ظہور الدین حاتم
اس قدر بسکہ روز ملنے سے
خاطروں میں غبار آوے ہے
شیخ ظہور الدین حاتم

