جس نے پایا اسے سو ہے خاموش
جس نے پایا نہیں سو بکتا ہے
شیخ ظہور الدین حاتم
جس طرف کو میں گیا روتا ہوا
تا فلک روئے زمیں دریا ہوا
شیخ ظہور الدین حاتم
جو ازل میں قلم چلی سو چلی
بد ہوا یا نکو ہوا سو ہوا
شیخ ظہور الدین حاتم
جو جی میں آوے تو ٹک جھانک اپنے دل کی طرف
کہ اس طرف کو ادھر سے بھی راہ نکلے ہے
شیخ ظہور الدین حاتم
جنوں ہے فوج فوج اور اس طرف حاتمؔ اکیلا ہے
نہیں کوئی تجھ بغیر اب اے مرے اللہ کیا کیجے
شیخ ظہور الدین حاتم
کئی دیوان کہہ چکا حاتمؔ
اب تلک پر زباں نہیں ہے درست
شیخ ظہور الدین حاتم
کئی فرہاد ہیں جویا ترے شیریں لب کے
کئی یوسف ہیں زنخدان کے چاہوں کے بیچ
شیخ ظہور الدین حاتم
کب یہ دل و دماغ ہے منت شمع کھینچیے
خانۂ دل جلوں کے بیچ داغ جگر چراغ ہے
شیخ ظہور الدین حاتم
کبھو بیمار سن کر وہ عیادت کو تو آتا تھا
ہمیں اپنے بھلے ہونے سے وہ آزار بہتر تھا
شیخ ظہور الدین حاتم

