دل صدچاک مرا راہ یہاں کب پائے
کوچۂ زلف میں پھرتا ہے ترے شانہ خراب
شیخ ظہور الدین حاتم
دل عشاق پرندوں کی طرح اڑتے ہیں
اس بیابان میں کیا ایک بھی صیاد نہیں
شیخ ظہور الدین حاتم
دوستوں سے دشمنی اور دشمنوں سے دوستی
بے مروت بے وفا بے رحم یہ کیا ڈھنگ ہے
شیخ ظہور الدین حاتم
ایک بوسہ مانگتا ہے تم سے حاتمؔ سا گدا
جانیو راہ خدا میں یہ بھی اک خیرات کی
شیخ ظہور الدین حاتم
ایک دن پوچھا نہ حاتمؔ کو کبھو اس نے کہ دوست
کب سے تو بیمار ہے اور کیا تجھے آزار ہے
شیخ ظہور الدین حاتم
فانوس تن میں دیکھ لے روشن ہیں جوں چراغ
جو داغ دل پہ عشق میں تیرے دیے ہیں ہم
شیخ ظہور الدین حاتم
فی الحقیقت کوئی نہیں مرتا
موت حکمت کا ایک پردا ہے
شیخ ظہور الدین حاتم
گدا کو گر قناعت ہو تو پھاٹا چیتھڑا بس ہے
وگرنہ حرص آگے تھان سو گز کا لنگوٹی ہے
شیخ ظہور الدین حاتم
گلی میں اس کی نہ دیکھا کبھو کسی کو مگر
اجل گرفتہ کوئی گاہ گاہ نکلے ہے
شیخ ظہور الدین حاتم

