EN हिंदी
شیخ ظہور الدین حاتم شیاری | شیح شیری

شیخ ظہور الدین حاتم شیر

235 شیر

چلا جاتا تھا حاتمؔ آج کچھ واہی تباہی سا
جو دیکھا ہاتھ میں اس کے ترے شکوے کا دفتر تھا

شیخ ظہور الدین حاتم




چمن خراب کیا، ہو خزاں کا خانہ خراب
نہ گل رہا ہے نہ بلبل ہے باغباں تنہا

شیخ ظہور الدین حاتم




چھل بل اس کی نگاہ کا مت پوچھ
سحر ہے ٹوٹکا ہے ٹونا ہے

شیخ ظہور الدین حاتم




چھپاتا کیا ہے منہ کب تک چھپے گا
تجھے سب شہر قاتل جانتا ہے

شیخ ظہور الدین حاتم




دہن ہے تنگ شکر اور شکر ہے ترا ہے کلام
لباں ہیں پستہ زنخ سیب و چشم ہیں بادام

شیخ ظہور الدین حاتم




درد تو میرے پاس سے مرتے تلک نہ جائیو
طاقت صبر ہو نہ ہو تاب و قرار ہو نہ ہو

شیخ ظہور الدین حاتم




در و دیوار چمن آج ہیں خوں سے لبریز
دست گلچیں سے مبادا کوئی دل ٹوٹا ہے

شیخ ظہور الدین حاتم




دورا ہے جب سے بزم میں تیری شراب کا
بازار گرم ہے مرے دل کے کباب کا

شیخ ظہور الدین حاتم




دے کے دل ہاتھ ترے اپنے ہاتھ
ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں

شیخ ظہور الدین حاتم