EN हिंदी
شیخ ظہور الدین حاتم شیاری | شیح شیری

شیخ ظہور الدین حاتم شیر

235 شیر

دے کے دل اس کے ہاتھ اپنے ہاتھ
ہم نے سودا کیا ہے دست بدست

شیخ ظہور الدین حاتم




دیکھ کر ہر عضو ان کا دل ہو پانی بہہ چلا
کھول چھاتی بے تکلف جب نہائیں باغ میں

شیخ ظہور الدین حاتم




دیکھوں ہوں تجھ کو دور سے بیٹھا ہزار کوس
عینک نہ چاہئے نہ یہاں دوربیں مجھے

شیخ ظہور الدین حاتم




دل دیکھتے ہی اس کو گرفتار ہو گیا
رسوائے شہر و کوچہ و بازار ہو گیا

شیخ ظہور الدین حاتم




دل کی لہروں کا طول و عرض نہ پوچھ
کبھو دریا کبھو سفینہ ہے

شیخ ظہور الدین حاتم




دل کو مارا چشم نے ابرو کی تلواروں سے آج
کیوں بھڑا تھا جا کے یہ ہشیار مے خواروں سے آج

شیخ ظہور الدین حاتم




دل تھا بغل میں مدعی خوب ہوا جو غم ہوا
جانے سے اس کی ان دنوں ہم کو بڑا فراغ ہے

شیخ ظہور الدین حاتم




دل اس کی تار زلف کے بل میں الجھ گیا
سلجھے گا کس طرح سے یہ بستار ہے غضب

شیخ ظہور الدین حاتم




دل نازک مرا ہاتھوں میں سنبھالے رکھیو
کہے دیتا ہوں یہ اے سنگ دلاں ہے شیشہ

شیخ ظہور الدین حاتم