ہمیں جب نہ ہوں گے تو کیا رنگ محفل
کسے دیکھ کر آپ شرمایئے گا
جگر مراد آبادی
ہر طرف چھا گئے پیغام محبت بن کر
مجھ سے اچھی رہی قسمت مرے افسانوں کی
جگر مراد آبادی
حسیں تیری آنکھیں حسیں تیرے آنسو
یہیں ڈوب جانے کو جی چاہتا ہے
جگر مراد آبادی
حسن کے ہر جمال میں پنہاں
میری رعنائی خیال بھی ہے
جگر مراد آبادی
حسن کو بھی کہاں نصیب جگرؔ
وہ جو اک شے مری نگاہ میں ہے
جگر مراد آبادی
حسن کو کیا دشمنی ہے عشق کو کیا بیر ہے
اپنے ہی قدموں کی خود ہی ٹھوکریں کھاتا ہوں میں
جگر مراد آبادی
ہوں خطا کار سیاہ کار گنہ گار مگر
کس کو بخشے تری رحمت جو گنہ گار نہ ہو
جگر مراد آبادی
ابتدا وہ تھی کہ جینا تھا محبت میں محال
انتہا یہ ہے کہ اب مرنا بھی مشکل ہو گیا
جگر مراد آبادی
ادھر سے بھی ہے سوا کچھ ادھر کی مجبوری
کہ ہم نے آہ تو کی ان سے آہ بھی نہ ہوئی
جگر مراد آبادی

