مے کشو مژدہ کہ باقی نہ رہی قید مکاں
آج اک موج بہا لے گئی میخانے کو
جگر مراد آبادی
مرگ عاشق تو کچھ نہیں لیکن
اک مسیحا نفس کی بات گئی
جگر مراد آبادی
مسرت زندگی کا دوسرا نام
مسرت کی تمنا مستقل غم
جگر مراد آبادی
موت کیا ایک لفظ بے معنی
جس کو مارا حیات نے مارا
جگر مراد آبادی
میرے درد میں یہ خلش کہاں میرے سوز میں یہ تپش کہاں
کسی اور ہی کی پکار ہے مری زندگی کی صدا نہیں
جگر مراد آبادی
میری بربادیاں درست مگر
تو بتا کیا تجھے ثواب ہوا
جگر مراد آبادی
میری نگاہ شوق بھی کچھ کم نہیں مگر
پھر بھی ترا شباب ترا ہی شباب ہے
جگر مراد آبادی
مری ہستی ہے مری طرز تمنا اے دوست
خود میں فریاد ہوں میری کوئی فریاد نہیں
جگر مراد آبادی
ان کا جو فرض ہے وہ اہل سیاست جانیں
میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے
جگر مراد آبادی

