اک لفظ محبت کا ادنیٰ یہ فسانا ہے
سمٹے تو دل عاشق پھیلے تو زمانہ ہے
جگر مراد آبادی
اس طرح خوش ہوں کسی کے وعدۂ فردا پہ میں
در حقیقت جیسے مجھ کو اعتبار آ ہی گیا
جگر مراد آبادی
عشق جب تک نہ کر چکے رسوا
آدمی کام کا نہیں ہوتا
till love does not cause him disgrace
in this world man has no place
جگر مراد آبادی
عشق پر کچھ نہ چلا دیدۂ تر کا قابو
اس نے جو آگ لگا دی وہ بجھائی نہ گئی
جگر مراد آبادی
اتنے حجابوں پر تو یہ عالم ہے حسن کا
کیا حال ہو جو دیکھ لیں پردہ اٹھا کے ہم
جگر مراد آبادی
جا اور کوئی ضبط کی دنیا تلاش کر
اے عشق ہم تو اب ترے قابل نہیں رہے
جگر مراد آبادی
جان ہی دے دی جگرؔ نے آج پائے یار پر
عمر بھر کی بے قراری کو قرار آ ہی گیا
جگر مراد آبادی
جب ملی آنکھ ہوش کھو بیٹھے
کتنے حاضر جواب ہیں ہم لوگ
جگر مراد آبادی
جہل خرد نے دن یہ دکھائے
گھٹ گئے انساں بڑھ گئے سائے
جگر مراد آبادی

