میں تو جب مانوں مری توبہ کے بعد
کر کے مجبور پلا دے ساقی
جگر مراد آبادی
کیا بتاؤں کس قدر زنجیر پا ثابت ہوئے
چند تنکے جن کو اپنا آشیاں سمجھا تھا میں
جگر مراد آبادی
کیا حسن نے سمجھا ہے کیا عشق نے جانا ہے
ہم خاک نشینوں کی ٹھوکر میں زمانا ہے
جگر مراد آبادی
کیا خبر تھی خلش ناز نہ جینے دے گی
یہ تری پیار کی آواز نہ جینے دے گی
جگر مراد آبادی
لاکھ آفتاب پاس سے ہو کر گزر گئے
ہم بیٹھے انتظار سحر دیکھتے رہے
a million suns have come and gone
still I sat waiting watching out for dawn
جگر مراد آبادی
لاکھوں میں انتخاب کے قابل بنا دیا
جس دل کو تم نے دیکھ لیا دل بنا دیا
جگر مراد آبادی
لبوں پہ موج تبسم نگہ میں برق غضب
کوئی بتائے یہ انداز برہمی کیا ہے
جگر مراد آبادی
لے کے خط ان کا کیا ضبط بہت کچھ لیکن
تھرتھراتے ہوئے ہاتھوں نے بھرم کھول دیا
جگر مراد آبادی
میں جہاں ہوں ترے خیال میں ہوں
تو جہاں ہے مری نگاہ میں ہے
جگر مراد آبادی

