مجھے اب تم سے ڈر لگنے لگا ہے
تمہیں مجھ سے محبت ہو گئی کیا
جون ایلیا
مستقل بولتا ہی رہتا ہوں
کتنا خاموش ہوں میں اندر سے
جون ایلیا
نہ رکھا ہم نے بیش و کم کا خیال
شوق کو بے حساب ہی لکھا
جون ایلیا
نئی خواہش رچائی جا رہی ہے
تری فرقت منائی جا رہی ہے
جون ایلیا
نہیں دنیا کو جب پروا ہماری
تو پھر دنیا کی پروا کیوں کریں ہم
جون ایلیا
نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم
بچھڑنا ہے تو جھگڑا کیوں کریں ہم
جون ایلیا
پڑی رہنے دو انسانوں کی لاشیں
زمیں کا بوجھ ہلکا کیوں کریں ہم
جون ایلیا
پھر اس گلی سے اپنا گزر چاہتا ہے دل
اب اس گلی کو کون سی بستی سے لاؤں میں
جون ایلیا
پوچھ نہ وصل کا حساب حال ہے اب بہت خراب
رشتۂ جسم و جاں کے بیچ جسم حرام ہو گیا
جون ایلیا

