EN हिंदी
جون ایلیا شیاری | شیح شیری

جون ایلیا شیر

159 شیر

یوں جو تکتا ہے آسمان کو تو
کوئی رہتا ہے آسمان میں کیا

جون ایلیا




زندگی ایک فن ہے لمحوں کو
اپنے انداز سے گنوانے کا

جون ایلیا




زندگی کس طرح بسر ہوگی
دل نہیں لگ رہا محبت میں

جون ایلیا




زندگی کیا ہے اک کہانی ہے
یہ کہانی نہیں سنانی ہے

جون ایلیا




مرہم ہجر تھا عجب اکسیر
اب تو ہر زخم بھر گیا ہوگا

جون ایلیا




میں بھی بہت عجیب ہوں اتنا عجیب ہوں کہ بس
خود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں

جون ایلیا




میں بستر خیال پہ لیٹا ہوں اس کے پاس
صبح ازل سے کوئی تقاضا کیے بغیر

جون ایلیا




میں اس دیوار پر چڑھ تو گیا تھا
اتارے کون اب دیوار پر سے

جون ایلیا




میں جو ہوں جونؔ ایلیا ہوں جناب
اس کا بے حد لحاظ کیجئے گا

جون ایلیا