شاید وہ دن پہلا دن تھا پلکیں بوجھل ہونے کا
مجھ کو دیکھتے ہی جب اس کی انگڑائی شرمائی ہے
جون ایلیا
شب جو ہم سے ہوا معاف کرو
نہیں پی تھی بہک گئے ہوں گے
جون ایلیا
شیشے کے اس طرف سے میں سب کو تک رہا ہوں
مرنے کی بھی کسی کو فرصت نہیں ہے مجھ میں
جون ایلیا
سوچتا ہوں کہ اس کی یاد آخر
اب کسے رات بھر جگاتی ہے
جون ایلیا
تیغ بازی کا شوق اپنی جگہ
آپ تو قتل عام کر رہے ہیں
جون ایلیا
ٹھیک ہے خود کو ہم بدلتے ہیں
شکریہ مشورت کا چلتے ہیں
جون ایلیا
تری قیمت گھٹائی جا رہی ہے
مجھے فرقت سکھائی جا رہی ہے
جون ایلیا
تو کیا سچ مچ جدائی مجھ سے کر لی
تو خود اپنے کو آدھا کر لیا کیا
جون ایلیا
تمہارا ہجر منا لوں اگر اجازت ہو
میں دل کسی سے لگا لوں اگر اجازت ہو
جون ایلیا

