مل کر تپاک سے نہ ہمیں کیجیے اداس
خاطر نہ کیجیے کبھی ہم بھی یہاں کے تھے
جون ایلیا
مل رہی ہو بڑے تپاک کے ساتھ
مجھ کو یکسر بھلا چکی ہو کیا
جون ایلیا
مری شراب کا شہرہ ہے اب زمانے میں
سو یہ کرم ہے تو کس کا ہے اب بھی آ جاؤ
جون ایلیا
مجھ کو عادت ہے روٹھ جانے کی
آپ مجھ کو منا لیا کیجے
جون ایلیا
مجھ کو خواہش ہی ڈھونڈنے کی نہ تھی
مجھ میں کھویا رہا خدا میرا
جون ایلیا
مجھ کو تو کوئی ٹوکتا بھی نہیں
یہی ہوتا ہے خاندان میں کیا
جون ایلیا
مجھ کو یہ ہوش ہی نہ تھا تو مرے بازوؤں میں ہے
یعنی تجھے ابھی تلک میں نے رہا نہیں کیا
جون ایلیا
مجھ سے اب لوگ کم ہی ملتے ہیں
یوں بھی میں ہٹ گیا ہوں منظر سے
جون ایلیا
مجھے اب ہوش آتا جا رہا ہے
خدا تیری خدائی جا رہی ہے
جون ایلیا

