EN हिंदी
جون ایلیا شیاری | شیح شیری

جون ایلیا شیر

159 شیر

اک عجب حال ہے کہ اب اس کو
یاد کرنا بھی بے وفائی ہے

جون ایلیا




علاج یہ ہے کہ مجبور کر دیا جاؤں
وگرنہ یوں تو کسی کی نہیں سنی میں نے

جون ایلیا




ان لبوں کا لہو نہ پی جاؤں
اپنی تشنہ لبی سے خطرہ ہے

جون ایلیا




اتنا خالی تھا اندروں میرا
کچھ دنوں تو خدا رہا مجھ میں

جون ایلیا




جان من تیری بے نقابی نے
آج کتنے نقاب بیچے ہیں

جون ایلیا




جانیے اس سے نبھے گی کس طرح
وہ خدا ہے میں تو بندہ بھی نہیں

جون ایلیا




جان لیوا تھیں خواہشیں ورنہ
وصل سے انتظار اچھا تھا

جون ایلیا




جاتے جاتے آپ اتنا کام تو کیجے مرا
یاد کا سارا سر و ساماں جلاتے جائیے

جون ایلیا




جمع ہم نے کیا ہے غم دل میں
اس کا اب سود کھائے جائیں گے

جون ایلیا