خموشی سے ادا ہو رسم دوری
کوئی ہنگامہ برپا کیوں کریں ہم
جون ایلیا
خرچ چلے گا اب مرا کس کے حساب میں بھلا
سب کے لئے بہت ہوں میں اپنے لئے ذرا نہیں
جون ایلیا
خدا سے لے لیا جنت کا وعدہ
یہ زاہد تو بڑے ہی گھاگ نکلے
جون ایلیا
خوب ہے شوق کا یہ پہلو بھی
میں بھی برباد ہو گیا تو بھی
جون ایلیا
کس لیے دیکھتی ہو آئینہ
تم تو خود سے بھی خوب صورت ہو
جون ایلیا
کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے
جانے کیسے لوگ وہ ہوں گے جو اس کو بھاتے ہوں گے
جون ایلیا
کتنی دل کش ہو تم کتنا دلجو ہوں میں
کیا ستم ہے کہ ہم لوگ مر جائیں گے
جون ایلیا
کیا تھا عہد جب لمحوں میں ہم نے
تو ساری عمر ایفا کیوں کریں ہم
جون ایلیا
کوئی مجھ تک پہنچ نہیں پاتا
اتنا آسان ہے پتا میرا
جون ایلیا

