جونؔ دنیا کی چاکری کر کے
تو نے دل کی وہ نوکری کیا کی
جون ایلیا
جسم میں آگ لگا دوں اس کے
اور پھر خود ہی بجھا دوں اس کو
جون ایلیا
جو گزاری نہ جا سکی ہم سے
ہم نے وہ زندگی گزاری ہے
جون ایلیا
جرم میں ہم کمی کریں بھی تو کیوں
تم سزا بھی تو کم نہیں کرتے
جون ایلیا
کام کی بات میں نے کی ہی نہیں
یہ مرا طور زندگی ہی نہیں
جون ایلیا
کیسے کہیں کہ تجھ کو بھی ہم سے ہے واسطہ کوئی
تو نے تو ہم سے آج تک کوئی گلہ نہیں کیا
جون ایلیا
کل کا دن ہائے کل کا دن اے جونؔ
کاش اس رات ہم بھی مر جائیں
جون ایلیا
کون اس گھر کی دیکھ بھال کرے
روز اک چیز ٹوٹ جاتی ہے
جون ایلیا
کون سے شوق کس ہوس کا نہیں
دل مری جان تیرے بس کا نہیں
جون ایلیا

