کیا ہے جو بدل گئی ہے دنیا
میں بھی تو بہت بدل گیا ہوں
جون ایلیا
کیا ہوئے صورت نگاراں خواب کے
خواب کے صورت نگاراں کیا ہوئے
جون ایلیا
کیا کہا عشق جاودانی ہے!
آخری بار مل رہی ہو کیا
جون ایلیا
کیا پوچھتے ہو نام و نشان مسافراں
ہندوستاں میں آئے ہیں ہندوستان کے تھے
جون ایلیا
کیا ستم ہے کہ اب تری صورت
غور کرنے پہ یاد آتی ہے
جون ایلیا
کیا تکلف کریں یہ کہنے میں
جو بھی خوش ہے ہم اس سے جلتے ہیں
جون ایلیا
میں بھی بہت عجیب ہوں اتنا عجیب ہوں کہ بس
خود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں
جون ایلیا
میں بستر خیال پہ لیٹا ہوں اس کے پاس
صبح ازل سے کوئی تقاضا کیے بغیر
جون ایلیا
میں اس دیوار پر چڑھ تو گیا تھا
اتارے کون اب دیوار پر سے
جون ایلیا

