خار حسرت بیان سے نکلا
دل کا کانٹا زبان سے نکلا
داغؔ دہلوی
خاطر سے یا لحاظ سے میں مان تو گیا
جھوٹی قسم سے آپ کا ایمان تو گیا
for reasons of formality, I've chosen to believe
you have surely lost your faith when you so deceive
داغؔ دہلوی
خبر سن کر مرے مرنے کی وہ بولے رقیبوں سے
خدا بخشے بہت سی خوبیاں تھیں مرنے والے میں
upon my death she stated to my rivals, if you please
may God spare the parted soul had many qualities
داغؔ دہلوی
خدا کی قسم اس نے کھائی جو آج
قسم ہے خدا کی مزا آ گیا
when she swore on God today
I swear to God
داغؔ دہلوی
خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں
صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں
what coyness this is, to abide,a screen beside her face
which neither does she clearly hide nor openly display
داغؔ دہلوی
کی ترک مے تو مائل پندار ہو گیا
میں توبہ کر کے اور گنہ گار ہو گیا
داغؔ دہلوی
کوئی چھینٹا پڑے تو داغؔ کلکتے چلے جائیں
عظیم آباد میں ہم منتظر ساون کے بیٹھے ہیں
داغؔ دہلوی
کوئی نام و نشاں پوچھے تو اے قاصد بتا دینا
تخلص داغؔ ہے وہ عاشقوں کے دل میں رہتے ہیں
داغؔ دہلوی
کیا اضطراب شوق نے مجھ کو خجل کیا
وہ پوچھتے ہیں کہئے ارادے کہاں کے ہیں
داغؔ دہلوی

