مجھ گنہ گار کو جو بخش دیا
تو جہنم کو کیا دیا تو نے
if you have forgiven offences such as mine
then to nether world what did you consign
داغؔ دہلوی
جس خط پہ یہ لگائی اسی کا ملا جواب
اک مہر میرے پاس ہے دشمن کے نام کی
داغؔ دہلوی
جس میں لاکھوں برس کی حوریں ہوں
ایسی جنت کو کیا کرے کوئی
where virgins aged a million years reside
hopes for such a heaven why abide
داغؔ دہلوی
جو گزرتے ہیں داغؔ پر صدمے
آپ بندہ نواز کیا جانیں
داغؔ دہلوی
جو تمہاری طرح تم سے کوئی جھوٹے وعدے کرتا
تمہیں منصفی سے کہہ دو تمہیں اعتبار ہوتا
داغؔ دہلوی
جوش رحمت کے واسطے زاہد
ہے ذرا سی گناہ گاری شرط
داغؔ دہلوی
کہیں ہے عید کی شادی کہیں ماتم ہے مقتل میں
کوئی قاتل سے ملتا ہے کوئی بسمل سے ملتا ہے
festive joy in places, elsewhere gloom of genocide
some like the murderer rejoice, some victim-like abide
داغؔ دہلوی
کہنے دیتی نہیں کچھ منہ سے محبت میری
لب پہ رہ جاتی ہے آ آ کے شکایت میری
from voicing my emotions, love makes me refrain
grievances come to my lips but silent there remain
داغؔ دہلوی
کل تک تو آشنا تھے مگر آج غیر ہو
دو دن میں یہ مزاج ہے آگے کی خیر ہو
داغؔ دہلوی

