وہ دن گئے کہ داغؔ تھی ہر دم بتوں کی یاد
پڑھتے ہیں پانچ وقت کی اب تو نماز ہم
داغؔ دہلوی
یوں بھی ہزاروں لاکھوں میں تم انتخاب ہو
پورا کرو سوال تو پھر لا جواب ہو
داغؔ دہلوی
یوں میرے ساتھ دفن دل بے قرار ہو
چھوٹا سا اک مزار کے اندر مزار ہو
داغؔ دہلوی
ظالم نے کیا نکالی رفتار رفتہ رفتہ
اس چال پر چلے گی تلوار رفتہ رفتہ
داغؔ دہلوی
زمانہ دوستی پر ان حسینوں کی نہ اترائے
یہ عالم دوست اکثر دشمن عالم بھی ہوتے ہیں
داغؔ دہلوی
زمانے کے کیا کیا ستم دیکھتے ہیں
ہمیں جانتے ہیں جو ہم دیکھتے ہیں
داغؔ دہلوی
ضد ہر اک بات پر نہیں اچھی
دوست کی دوست مان لیتے ہیں
داغؔ دہلوی
زیست سے تنگ ہو اے داغؔ تو جیتے کیوں ہو
جان پیاری بھی نہیں جان سے جاتے بھی نہیں
داغؔ دہلوی
ذکر مہر و وفا تو ہم کرتے
پر تمہیں شرمسار کون کرے
داغؔ دہلوی

