دل لے کے مفت کہتے ہیں کچھ کام کا نہیں
الٹی شکایتیں ہوئیں احسان تو گیا
she takes my heart for free and yet holds it in disdain
far from showing gratitude, she ventures to complain
داغؔ دہلوی
دل لے کے ان کی بزم میں جایا نہ جائے گا
یہ مدعی بغل میں چھپایا نہ جائے گا
داغؔ دہلوی
دل میں سما گئی ہیں قیامت کی شوخیاں
دو چار دن رہا تھا کسی کی نگاہ میں
داغؔ دہلوی
دنیا میں جانتا ہوں کہ جنت مجھے ملی
راحت اگر ذرا سی مصیبت میں مل گئی
داغؔ دہلوی
فلک دیتا ہے جن کو عیش ان کو غم بھی ہوتے ہیں
جہاں بجتے ہیں نقارے وہاں ماتم بھی ہوتا ہے
داغؔ دہلوی
فسردہ دل کبھی خلوت نہ انجمن میں رہے
بہار ہو کے رہے ہم تو جس چمن میں رہے
داغؔ دہلوی
غمزہ بھی ہو سفاک نگاہیں بھی ہوں خوں ریز
تلوار کے باندھے سے تو قاتل نہیں ہوتا
داغؔ دہلوی
غش کھا کے داغؔ یار کے قدموں پہ گر پڑا
بے ہوش نے بھی کام کیا ہوشیار کا
داغؔ دہلوی
غضب کیا ترے وعدے پہ اعتبار کیا
تمام رات قیامت کا انتظار کیا
داغؔ دہلوی

