ہم بھی کیا زندگی گزار گئے
دل کی بازی لگا کے ہار گئے
داغؔ دہلوی
ہماری طرف اب وہ کم دیکھتے ہیں
وہ نظریں نہیں جن کو ہم دیکھتے ہیں
داغؔ دہلوی
ہمیں ہے شوق کہ بے پردہ تم کو دیکھیں گے
تمہیں ہے شرم تو آنکھوں پہ ہاتھ دھر لینا
داغؔ دہلوی
حسرتیں لے گئے اس بزم سے چلنے والے
ہاتھ ملتے ہی اٹھے عطر کے ملنے والے
داغؔ دہلوی
ہزار بار جو مانگا کرو تو کیا حاصل
دعا وہی ہے جو دل سے کبھی نکلتی ہے
داغؔ دہلوی
ہزاروں کام محبت میں ہیں مزے کے داغؔ
جو لوگ کچھ نہیں کرتے کمال کرتے ہیں
داغؔ دہلوی
حضرت داغؔ ہے یہ کوچۂ قاتل اٹھئے
جس جگہ بیٹھتے ہیں آپ تو جم جاتے ہیں
داغؔ دہلوی
حضرت داغ جہاں بیٹھ گئے بیٹھ گئے
اور ہوں گے تری محفل سے ابھرنے والے
داغؔ دہلوی
حضرت دل آپ ہیں کس دھیان میں
مر گئے لاکھوں اسی ارمان میں
داغؔ دہلوی

