میں یوں بھی احتیاطاً اس گلی سے کم گزرتا ہوں
کوئی معصوم کیوں میرے لیے بدنام ہو جائے
بشیر بدر
مندر گئے مسجد گئے پیروں فقیروں سے ملے
اک اس کو پانے کے لیے کیا کیا کیا کیا کیا ہوا
went to temples,mosques, and saints,mendicants I saught
to find the one what all I did what on myself have brought
بشیر بدر
میرا شیطان مر گیا شاید
میرے سینے پہ سو رہا ہے کوئی
بشیر بدر
میری آنکھ کے تارے اب نہ دیکھ پاؤ گے
رات کے مسافر تھے کھو گئے اجالوں میں
بشیر بدر
مرے ساتھ چلنے والے تجھے کیا ملا سفر میں
وہی دکھ بھری زمیں ہے وہی غم کا آسماں ہے
بشیر بدر
محبت عداوت وفا بے رخی
کرائے کے گھر تھے بدلتے رہے
بشیر بدر
محبت ایک خوشبو ہے ہمیشہ ساتھ چلتی ہے
کوئی انسان تنہائی میں بھی تنہا نہیں رہتا
بشیر بدر
محبتوں میں دکھاوے کی دوستی نہ ملا
اگر گلے نہیں ملتا تو ہاتھ بھی نہ ملا
بشیر بدر
مدت سے اک لڑکی کے رخسار کی دھوپ نہیں آئی
اس لئے میرے کمرے میں اتنی ٹھنڈک رہتی ہے
بشیر بدر

