EN हिंदी
حسین شیاری | شیح شیری

حسین

110 شیر

حسن اک دل ربا حکومت ہے
عشق اک قدرتی غلامی ہے

عبد الحمید عدم




عشق ہے بے گداز کیوں حسن ہے بے نیاز کیوں
میری وفا کہاں گئی ان کی جفا کو کیا ہوا

عبد المجید سالک




کون ثانی شہر میں اس میرے مہ پارے کی ہے
چاند سی صورت دوپٹہ سر پہ یک تارے کا ہے

عبدالرحمان احسان دہلوی




پھولوں کی سیج پر ذرا آرام کیا کیا
اس گلبدن پہ نقش اٹھ آئے گلاب کے

عادل منصوری




یہ کھلا جسم کھلے بال یہ ہلکے ملبوس
تم نئی صبح کا آغاز کرو گے شاید

افروز عالم




سنا ہے اس کے بدن کی تراش ایسی ہے
کہ پھول اپنی قبائیں کتر کے دیکھتے ہیں

احمد فراز




تیرے ہوتے ہوئے محفل میں جلاتے ہیں چراغ
لوگ کیا سادہ ہیں سورج کو دکھاتے ہیں چراغ

احمد فراز