EN हिंदी
حسین شیاری | شیح شیری

حسین

110 شیر

دیکھوں ترے ہاتھوں کو تو لگتا ہے ترے ہاتھ
مندر میں فقط دیپ جلانے کے لیے ہیں

جاں نثاراختر




اب تو تیرے حسن کی ہر انجمن میں دھوم ہے
جس نے میرا حال دیکھا تیرا دیوانہ ہوا

جمیل یوسف




برقع پوش پٹھانی جس کی لاج میں سو سو روپ
کھل کے نہ دیکھی پھر بھی دیکھی ہم نے چھاؤں میں دھوپ

جمیل الدین عالی




روز اک محفل اور ہر محفل ناریوں سے بھرپور
پاس بھی ہوں تو جان کے بیٹھیں عالؔی سب سے دور

جمیل الدین عالی




حسن کے ہر جمال میں پنہاں
میری رعنائی خیال بھی ہے

جگر مراد آبادی




حسن کو بھی کہاں نصیب جگرؔ
وہ جو اک شے مری نگاہ میں ہے

جگر مراد آبادی




اتنے حجابوں پر تو یہ عالم ہے حسن کا
کیا حال ہو جو دیکھ لیں پردہ اٹھا کے ہم

جگر مراد آبادی