EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

کیسے ممکن ہے کہ ہم دونوں بچھڑ جائیں گے
اتنی گہرائی سے ہر بات کو سوچا نہ کرو

عزیز وارثی




خوشی محسوس کرتا ہوں نہ غم محسوس کرتا ہوں
بہر عالم تمہارا ہی کرم محسوس کرتا ہوں

عزیز وارثی




مری تقدیر سے پہلے سنورنا جن کا مشکل ہے
تری زلفوں میں کچھ ایسے بھی خم محسوس کرتا ہوں

عزیز وارثی




محبت لفظ تو سادہ سا ہے لیکن عزیزؔ اس کو
متاع دل سمجھتے تھے متاع دل سمجھتے ہیں

عزیز وارثی




محتسب آؤ چلیں آج تو مے خانے میں
ایک جنت ہے وہاں آپ کی جنت کے سوا

عزیز وارثی




مجھ سے یہ پوچھ رہے ہیں مرے احباب عزیزؔ
کیا ملا شہر سخن میں تمہیں شہرت کے سوا

عزیز وارثی




تری محفل میں فرق کفر و ایماں کون دیکھے گا
فسانہ ہی نہیں کوئی تو عنواں کون دیکھے گا

عزیز وارثی