EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

کس لئے اس سے نکلنے کی دعائیں مانگوں
مجھ کو معلوم ہے منجدھار سے آگے کیا ہے

ازلان شاہ




کسی کے نام پہ ننھے دیے جلاتے ہوئے
خدا کو بھول گئے نیکیاں کماتے ہوئے

ازلان شاہ




مجھ کو پہچان تو اے وقت میں وہ ہوں جو فقط
ایک غلطی کے لئے عرش بریں سے نکلا

ازلان شاہ




نہ ہاتھ سوکھ کے جھڑتے ہیں جسم سے اپنے
نہ شاخ کوئی ثمر بار اپنی ہوتی ہے

ازلان شاہ




طویل عمر کی ڈھیروں دعائیں بھیجی ہیں
مرے چراغ کو پانی سے بھرنے والوں نے

ازلان شاہ




تم محبت کا اسے نام بھی دے لو لیکن
یہ تو قصہ کسی ہاری ہوئی تقدیر کا ہے

ازلان شاہ




تو آ گیا ہے تو اب یاد بھی نہیں مجھ کو
یہ عشق میرا برا حال کرنے والا تھا

ازلان شاہ