EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

وہیں بہار بکف قافلے لپک کے چلے
جہاں جہاں ترے نقش قدم ابھرتے رہے

عزیز تمنائی




وہ شے کہاں ہے پنہاں اے موج آب حیواں
جو وجۂ سر خوشی تھی برسوں کی تشنگی میں

عزیز تمنائی




یہ غم نہیں کہ مجھ کو جاگنا پڑا ہے عمر بھر
یہ رنج ہے کہ میرے سارے خواب کوئی لے گیا

عزیز تمنائی




دل میں اب کچھ بھی نہیں ان کی محبت کے سوا
سب فسانے ہیں حقیقت میں حقیقت کے سوا

عزیز وارثی




غم عقبیٰ غم دوراں غم ہستی کی قسم
اور بھی غم ہیں زمانے میں محبت کے سوا

عزیز وارثی




اک وقت تھا کہ دل کو سکوں کی تلاش تھی
اور اب یہ آرزو ہے کہ درد نہاں رہے

عزیز وارثی




جہاں میں ہم جسے بھی پیار کے قابل سمجھتے ہیں
حقیقت میں اسی کو زیست کا حاصل سمجھتے ہیں

عزیز وارثی