EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

تم پہ الزام نہ آ جائے سفر میں کوئی
راستہ کتنا ہی دشوار ہو ٹھہرا نہ کرو

عزیز وارثی




تمہاری ذات سے منسوب ہے دیوانگی میری
تمہیں سے اب مری دیوانگی دیکھی نہیں جاتی

عزیز وارثی




ڈوبا سفینہ جس میں مسافر کوئی نہ تھا
لیکن بھرے ہوئے تھے وہاں نا خدا بہت

عزیز الرحمن شہید فتح پوری




نہ جانے کون سی منزل پہ عشق آ پہونچا
دعا بھی کام نہ آئے کوئی دوا نہ لگے

عزیز الرحمن شہید فتح پوری




شاید یہی کتاب محبت ہو لا جواب
میری وفا کے ساتھ ہے تیری جفا بہت

عزیز الرحمن شہید فتح پوری




شہر ہو دشت تمنا ہو کہ دریا کا سفر
تیری تصویر کو سینے سے لگا رکھا ہے

عزیز الرحمن شہید فتح پوری




یہ بات سچ ہے کہ مرنا سبھی کو ہے لیکن
الگ ہی ہوتی ہے لذت نگاہ قاتل کی

عزیز الرحمن شہید فتح پوری