ضمیر بیچنے والے وہ تیرا سودا گر
ضمیر ہی نہیں ذات و صفات لے کے گیا
عزیز الرحمن شہید فتح پوری
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
چند قدموں سے زیادہ نہیں چلنے پاتے
جس کو دیکھو وہی قیدی کسی زنجیر کا ہے
ازلان شاہ
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
چپکے سے گزرتے ہیں خبر بھی نہیں ہوتی
دن رات بھی کم بخت جوانی کی طرح ہیں
ازلان شاہ
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
ایڑیاں مار کے زخمی بھی ہوئے لوگ مگر
کوئی چشمہ نہیں زرخیز زمیں سے نکلا
ازلان شاہ
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
ہار کو جیت کے امکان سے باندھے ہوئے رکھ
اپنی مشکل کسی آسان سے باندھے ہوئے رکھ
ازلان شاہ
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
ہارے ہوئے لوگوں کی کہانی کی طرح ہیں
ہم لوگ بھی بہتے ہوئے پانی کی طرح ہیں
ازلان شاہ
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
کماں نہ تیر نہ تلوار اپنی ہوتی ہے
مگر یہ دنیا کہ ہر بار اپنی ہوتی ہے
ازلان شاہ
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

