EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ضمیر بیچنے والے وہ تیرا سودا گر
ضمیر ہی نہیں ذات و صفات لے کے گیا

عزیز الرحمن شہید فتح پوری




چند قدموں سے زیادہ نہیں چلنے پاتے
جس کو دیکھو وہی قیدی کسی زنجیر کا ہے

ازلان شاہ




چپکے سے گزرتے ہیں خبر بھی نہیں ہوتی
دن رات بھی کم بخت جوانی کی طرح ہیں

ازلان شاہ




ایڑیاں مار کے زخمی بھی ہوئے لوگ مگر
کوئی چشمہ نہیں زرخیز زمیں سے نکلا

ازلان شاہ




ہار کو جیت کے امکان سے باندھے ہوئے رکھ
اپنی مشکل کسی آسان سے باندھے ہوئے رکھ

ازلان شاہ




ہارے ہوئے لوگوں کی کہانی کی طرح ہیں
ہم لوگ بھی بہتے ہوئے پانی کی طرح ہیں

ازلان شاہ




کماں نہ تیر نہ تلوار اپنی ہوتی ہے
مگر یہ دنیا کہ ہر بار اپنی ہوتی ہے

ازلان شاہ