EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

یہ راس رنگ یہ میل ملن اک ہاتھ میں چاند اک میں سورج
اک رات کا موج مزہ سارا اک دن کا سیر سپاٹا ہے

عزیز قیسی




اب کون سی متاع سفر دل کے پاس ہے
اک روشنئ صبح تھی وہ بھی اداس ہے

عزیز تمنائی




اے موج خوش خرام ذرا تیز تیز چل
بنتی ہے سطح آب کنارہ کبھی کبھی

عزیز تمنائی




باقی ابھی قفس میں ہے اہل قفس کی یاد
بکھرے پڑے ہیں بال کہیں اور پر کہیں

عزیز تمنائی




دہر میں اک ترے سوا کیا ہے
تو نہیں ہے تو پھر بھلا کیا ہے

عزیز تمنائی




ایک سناٹا تھا آواز نہ تھی اور نہ جواب
دل میں اتنے تھے سوالات کہ ہم سو نہ سکے

عزیز تمنائی




ہم نے جو تمنائیؔ بیابان طلب میں
اک عمر گزاری ہے تو دو چار برس اور

عزیز تمنائی