ہمیں نے زیست کے ہر روپ کو سنوارا ہے
لٹا کے روشنئ طبع جلوہ گاہوں میں
عزیز تمنائی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
ہزار بار آزما چکا ہے مگر ابھی آزما رہا ہے
ابھی زمانے کو آدمی کا نہیں ہے کچھ اعتبار شاید
عزیز تمنائی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
جس کو چلنا ہے چلے رخت سفر باندھے ہوئے
ہم جہاں گشت ہیں اٹھے ہیں کمر باندھے ہوئے
عزیز تمنائی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
کچھ کام آ سکیں نہ یہاں بے گناہیاں
ہم پر لگا ہوا تھا وہ الزام عمر بھر
عزیز تمنائی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
مل ہی جائے گی کبھی منزل مقصود سحر
شرط یہ ہے کہ سفر کرتے رہو شام کے ساتھ
عزیز تمنائی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
تھپکیاں دیتے رہے ٹھنڈی ہوا کے جھونکے
اس قدر جل اٹھے جذبات کہ ہم سو نہ سکے
عزیز تمنائی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
ان کو ہے دعویٰ مسیحائی
جو نہیں جانتے شفا کیا ہے
عزیز تمنائی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

