EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ہمیں نے زیست کے ہر روپ کو سنوارا ہے
لٹا کے روشنئ طبع جلوہ گاہوں میں

عزیز تمنائی




ہزار بار آزما چکا ہے مگر ابھی آزما رہا ہے
ابھی زمانے کو آدمی کا نہیں ہے کچھ اعتبار شاید

عزیز تمنائی




جس کو چلنا ہے چلے رخت سفر باندھے ہوئے
ہم جہاں گشت ہیں اٹھے ہیں کمر باندھے ہوئے

عزیز تمنائی




کچھ کام آ سکیں نہ یہاں بے گناہیاں
ہم پر لگا ہوا تھا وہ الزام عمر بھر

عزیز تمنائی




مل ہی جائے گی کبھی منزل مقصود سحر
شرط یہ ہے کہ سفر کرتے رہو شام کے ساتھ

عزیز تمنائی




تھپکیاں دیتے رہے ٹھنڈی ہوا کے جھونکے
اس قدر جل اٹھے جذبات کہ ہم سو نہ سکے

عزیز تمنائی




ان کو ہے دعویٰ مسیحائی
جو نہیں جانتے شفا کیا ہے

عزیز تمنائی