اک نوائے رفتہ کی بازگشت تھی قیسیؔ
دل جسے سمجھتے تھے دشت بے صدا نکلا
عزیز قیسی
جتنے تھے رنگ حسن بیاں کے بگڑ گئے
لفظوں کے باغ شہر کی صورت اجڑ گئے
عزیز قیسی
جو زخم دوستوں نے دیے ہیں وہ چھپ تو جائیں
پر دشمنوں کی سمت سے پتھر کوئی تو آئے
عزیز قیسی
کئی بار دور کساد میں گرے مہر و ماہ کے دام بھی
مگر ایک قیمت جنس دل جو کھری رہی تو کھری رہی
عزیز قیسی
کیا ہاتھ اٹھائیے دعا کو
ہم ہاتھ اٹھا چکے دعا سے
عزیز قیسی
نظر اٹھاؤ تو جھوم جائیں نظر جھکاؤ تو ڈگمگائیں
تمہاری نظروں سے سیکھتے ہیں طریق موت و حیات کے ہم
عزیز قیسی
تجھے سینے سے لگا لوں تجھے دل میں رکھ لوں
درد کی چھاؤں میں زخموں کی اماں میں آ جا
عزیز قیسی

