EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

کسی خیال کا کوئی وجود ہو شاید
بدل رہا ہوں میں خوابوں کو تجربہ کر کے

خالد ملک ساحلؔ




لفظ رنگوں میں نہائے ہوئے گھر میں آئے
تیری آواز کی تصویر میں مصروف تھا میں

خالد ملک ساحلؔ




میں اپنی آنکھ بھی خوابوں سے دھو نہیں پایا
میں کیسے دوں گا زمانے کو جو نہیں پایا

خالد ملک ساحلؔ




میں کس یقین سے لکھا گیا ہوں مٹی پر
وہ کون ہے جو مرے سلسلے کی ڈھال بنا

خالد ملک ساحلؔ




میں تماشا ہوں تماشائی ہیں چاروں جانب
شرم ہے شرم کے مارے نہیں رو سکتا میں

خالد ملک ساحلؔ




روشنی کی اگر علامت ہے
راکھ اڑتی ہے کیوں شرارے پر

خالد ملک ساحلؔ




تم مصلحت کہو یا منافق کہو مجھے
دل میں مگر غبار بہت دیر تک رہا

خالد ملک ساحلؔ