EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

لکیریں کھینچتے رہنے سے بن گئی تصویر
کوئی بھی کام ہو، بے کار تھوڑی ہوتا ہے

خالد معین




میں نے تجھ کو منزل جانا
تو مجھ کو رستہ سمجھا تھا

خالد معین




موسم یاد کا کوئی جھونکا، اب جو گزرے تمہاری خلوت سے
سوچ لینا ہمارے بارے میں، پر ہمارا ملال مت کرنا

خالد معین




محبت کی تو کوئی حد، کوئی سرحد نہیں ہوتی
ہمارے درمیاں یہ فاصلے، کیسے نکل آئے

خالد معین




منکشف! آج تلک ہو نہ سکا
میں خلا ہوں کہ خلا ہے مجھ میں

خالد معین




صدائیں ڈوب جاتی ہیں ہوا کے شور میں اور میں
گلی کوچوں میں تنہا چیختا رہتا ہوں بارش میں

خالد معین




شام پڑے سو جانے والا! دیپ بجھا کر یادوں کے
رات گئے تک جاگ رہا تھا پہلی پہلی بارش میں

خالد معین