EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

دشت جنوں سے آ گئے شہر خرد میں ہم
دل کو مگر یہ سانحہ اچھا نہیں لگا

خالد مبشر




کہیں رانجھا، کہیں مجنوں ہوا
وجود عشق عالم گیر ہے

خالد مبشر




مری وحشتوں کا سبب کون سمجھے
کہ میں گم شدہ قافلہ چاہتا ہوں

خالد مبشر




مجھے شک ہے ہونے نہ ہونے پہ خالدؔ
اگر ہوں تو اپنا پتا چاہتا ہوں

خالد مبشر




ٹپک کے دیدۂ نم سے صدائیں دیتا ہے
جو ایک حرف تمنا دل تباہ میں تھا

خالد مبشر




اسی مٹی سے حسب اور نسب تھا اپنا
کیوں ہوئے شہر میں آوارہ بہت مت پوچھو

خالد رحیم




آنکھ کس لفظ پہ بھر آئی ہے
کون سی بات پہ دل ٹوٹا ہے

خالد شریف