EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

نہ ہوں پیسے تو استقبالیوں سے کچھ نہیں ہوگا
کسی شاعر کو خالی تالیوں سے کچھ نہیں ہوگا

خالد عرفان




بات یہ ہے کہ سبھی بھائی مرے دشمن ہیں
مسئلہ یہ ہے کہ میں یوسف ثانی بھی نہیں

خالد کرار




کلیسا مولوی راہب پجاری
کلس مینار بت محراب صحرا

خالد کرار




کوئی تو آئے سنائے نوید تازہ مجھے
اٹھو کہ حشر سے پہلے حساب ہونے لگا

خالد کرار




پھر اس کے بعد مری رات بے مثال ہوئی
ادھر وہ شعلہ بدن تھا ادھر میں پانی تھا

خالد کرار




سچ تو یہ ہے کہ مرے پاس ہی درہم کم ہیں
ورنہ اس شہر میں اس درجہ گرانی بھی نہیں

خالد کرار




دل توڑنے والے کو خبر ہو کہ ابھی میں
سر تا بہ قدم اک دل بیمار نہیں ہوں

خالد خواجہ