EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ذرے ذرے میں قیامت کا سماں ہے ساحلؔ
ایک ہی دل کے سہارے نہیں رو سکتا میں

خالد ملک ساحلؔ




عجب پر لطف منظر دیکھتا رہتا ہوں بارش میں
بدن جلتا ہے اور میں بھیگتا رہتا ہوں بارش میں

خالد معین




عکس در عکس بکھرنا ہے مجھے
جانے کیا ٹوٹ گیا ہے مجھ میں

خالد معین




ایک دریچے سے دو آنکھیں روز صدائیں دیتی ہیں
رات گئے گھر لوٹنے والو شاد رہو آباد رہو

خالد معین




ہاتھ چھڑا کر جانے والے
میں تجھ کو اپنا سمجھا تھا

خالد معین




اس شہر فسوں گر کے عذاب اور، ثواب اور
ہجر اور طرح کا ہے، وصال اور طرح کا

خالد معین




کیسے گلفام کہوں، کیسے ستارہ سمجھوں
وہ بدن اور ہی مٹی کا بنایا ہوا ہے

خالد معین