گزر رہی ہے جو دل پر وہی حقیقت ہے
غم جہاں کا فسانہ غم حیات سے پوچھ
خالد ملک ساحلؔ
ہم لوگ تو اخلاق بھی رکھ آئے ہیں ساحلؔ
ردی کے اسی ڈھیر میں آداب پڑے تھے
خالد ملک ساحلؔ
اس شہر کے لوگوں پہ بھروسا نہیں کرنا
زنجیر کوئی در پہ لگاؤ کہ چلا میں
خالد ملک ساحلؔ
اس تشنہ لبی پر مجھے اعزاز تو بخشو
اے بادہ کشو جام اٹھاؤ کہ چلا میں
خالد ملک ساحلؔ
جواب جس کا نہیں کوئی وہ سوال بنا
میں خواب میں اسے دیکھوں کوئی خیال بنا
خالد ملک ساحلؔ
جنوں کا کوئی فسانہ تو ہاتھ آنے دو
میں رو پڑوں گا بہانہ تو ہاتھ آنے دو
خالد ملک ساحلؔ
خواب دیکھا تھا محبت کا محبت کی قسم
پھر اسی خواب کی تعبیر میں مصروف تھا میں
خالد ملک ساحلؔ

