EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

جھوٹ ہونٹوں پہ بلا خوف و خطر آیا ہے
مدتوں شہر میں رہ کر یہ ہنر آیا ہے

خالد خواجہ




بچے میری انگلی تھامے دھیرے دھیرے چلتے تھے
پھر وہ آگے دوڑ گئے میں تنہا پیچھے چھوٹ گیا

خالد ؔمحمود




شاید کہ مر گیا مرے اندر کا آدمی
آنکھیں دکھا رہا ہے برابر کا آدمی

خالد ؔمحمود




بعض اوقات ترا نام بدل جاتا ہے
بعض اوقات ترے نقش بھی کھو جاتے ہیں

خالد ملک ساحلؔ




بس ایک خوف تھا زندہ تری جدائی کا
مرا وہ آخری دشمن بھی آج مارا گیا

خالد ملک ساحلؔ




چمک رہے تھے اندھیرے میں سوچ کے جگنو
میں اپنی یاد کے خیمے میں سو نہیں پایا

خالد ملک ساحلؔ




دنیا سے دور اپنے برابر کھڑے رہے
خوابوں میں جاگتے تھے مگر رات ہو گئی

خالد ملک ساحلؔ