EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

اب گھر کے دریچے میں آئے گی ہوا کیسے
آگے بھی پلازا ہے پیچھے بھی پلازا ہے

خالد عرفان




بھوک تخلیق کا ٹیلنٹ بڑھا دیتی ہے
پیٹ خالی ہو تو ہم شعر نیا کہتے ہیں

خالد عرفان




دو چار دن سے میری سماعت بلاک تھی
تم نے غزل پڑھی تو مرا کان کھل گیا

خالد عرفان




جو لغت کو توڑ مروڑ دے جو غزل کو نثر سے جوڑ دے
میں وہ بد مذاق سخن نہیں وہ جدیدیا کوئی اور ہے

خالد عرفان




جو تم پرفیوم میں ڈبکی لگا کر روز آتی ہو
فضا تم سے معطر ہے ہوا میں کچھ نہیں رکھا

خالد عرفان




کیسا عجیب آیا ہے اس سال کا بجٹ
مرغی کا جو بجٹ ہے وہی دال کا بجٹ

خالد عرفان




میں نے بس اتنا ہی لکھا آئی لو یو اور پھر
اس نے آگے کر دیا تھا گال انٹرنیٹ پر

خالد عرفان