EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

جیسی نگاہ تھی تری ویسا فسوں ہوا
جو کچھ ترے خیال میں تھا جوں کا توں ہوا

خالد اقبال یاسر




خود اپنی شکل دیکھے ایک مدت ہو گئی مجھ کو
اٹھا لیتا ہے پتھر ٹوٹے آئینے نہیں دیتا

خالد اقبال یاسر




لگتا ہے زندہ رہنے کی حسرت گئی نہیں
مر کے بھی سانس لینے کی عادت گئی نہیں

خالد اقبال یاسر




پلٹ کے آئے نہ آئے کوئی سنے نہ سنے
صدا کا کام فضاؤں میں گونجتے تک ہے

خالد اقبال یاسر




رہتی ہے ساتھ ساتھ کوئی خوش گوار یاد
تجھ سے بچھڑ کے تیری رفاقت گئی نہیں

خالد اقبال یاسر




یہی بہت ہے کسی طرح سے بھرم ہی رہ جائے پیش دنیا
اگر میسر نہیں ہے بادہ خیال بادہ بھی کم نہیں ہے

خالد اقبال یاسر




زمانے کے دربار میں دست بستہ ہوا ہے
یہ دل اس پہ مائل مگر رفتہ رفتہ ہوا ہے

خالد اقبال یاسر