جیسی نگاہ تھی تری ویسا فسوں ہوا
جو کچھ ترے خیال میں تھا جوں کا توں ہوا
خالد اقبال یاسر
خود اپنی شکل دیکھے ایک مدت ہو گئی مجھ کو
اٹھا لیتا ہے پتھر ٹوٹے آئینے نہیں دیتا
خالد اقبال یاسر
لگتا ہے زندہ رہنے کی حسرت گئی نہیں
مر کے بھی سانس لینے کی عادت گئی نہیں
خالد اقبال یاسر
پلٹ کے آئے نہ آئے کوئی سنے نہ سنے
صدا کا کام فضاؤں میں گونجتے تک ہے
خالد اقبال یاسر
رہتی ہے ساتھ ساتھ کوئی خوش گوار یاد
تجھ سے بچھڑ کے تیری رفاقت گئی نہیں
خالد اقبال یاسر
یہی بہت ہے کسی طرح سے بھرم ہی رہ جائے پیش دنیا
اگر میسر نہیں ہے بادہ خیال بادہ بھی کم نہیں ہے
خالد اقبال یاسر
زمانے کے دربار میں دست بستہ ہوا ہے
یہ دل اس پہ مائل مگر رفتہ رفتہ ہوا ہے
خالد اقبال یاسر

