EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ہم کو جانا تھا کس طرف رزمیؔ!
اور کس سمت ہیں رواں ہم لوگ

خادم رزمی




کچھ اس لیے بھی وہ سیلاب بھیج دیتا ہے
کہ بستیوں میں رہو اور کھنڈر بھی ساتھ رکھو

خادم رزمی




عمریں گزر گئی ہیں اثر کی تلاش میں
کس نامراد لب کی دعا ہو گئے ہیں ہم

خادم رزمی




ایسا ہو زندگی میں کوئی خواب ہی نہ ہو
اندھیاری رات میں کوئی مہتاب ہی نہ ہو

خلیل مامون




ایسے مر جائیں کوئی نقش نہ چھوڑیں اپنا
یاد دل میں نہ ہو اخبار میں تصویر نہ ہو

خلیل مامون




چلنا لکھا ہے اپنے مقدر میں عمر بھر
منزل ہماری درد کی راہوں میں گم ہوئی

خلیل مامون




درد کے سہارے کب تلک چلیں گے
سانس رک رہی ہے فاصلہ بڑا ہے

خلیل مامون