بہاروں کی نظر میں پھول اور کانٹے برابر ہیں
محبت کیا کریں گے دوست دشمن دیکھنے والے
کلیم عاجز
بہت دشوار سمجھانا ہے غم کا
سمجھ لینے میں دشواری نہیں ہے
کلیم عاجز
ٹیگز:
| غام |
| 2 لائنیں شیری |
بھلا آدمی تھا پہ نادان نکلا
سنا ہے کسی سے محبت کرے ہے
کلیم عاجز
دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ
تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو
کلیم عاجز
درد ایسا ہے کہ جی چاہے ہے زندہ رہئے
زندگی ایسی کہ مر جانے کو جی چاہے ہے
کلیم عاجز
دل درد کی بھٹی میں کئی بار جلے ہے
تب ایک غزل حسن کے سانچے میں ڈھلے ہے
کلیم عاجز
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
دل تھام کے کروٹ پہ لئے جاؤں ہوں کروٹ
وہ آگ لگی ہے کہ بجھائے نہ بنے ہے
کلیم عاجز

