EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

بہاروں کی نظر میں پھول اور کانٹے برابر ہیں
محبت کیا کریں گے دوست دشمن دیکھنے والے

کلیم عاجز




بہت دشوار سمجھانا ہے غم کا
سمجھ لینے میں دشواری نہیں ہے

کلیم عاجز




بھلا آدمی تھا پہ نادان نکلا
سنا ہے کسی سے محبت کرے ہے

کلیم عاجز




دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ
تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو

کلیم عاجز




درد ایسا ہے کہ جی چاہے ہے زندہ رہئے
زندگی ایسی کہ مر جانے کو جی چاہے ہے

کلیم عاجز




دل درد کی بھٹی میں کئی بار جلے ہے
تب ایک غزل حسن کے سانچے میں ڈھلے ہے

کلیم عاجز




دل تھام کے کروٹ پہ لئے جاؤں ہوں کروٹ
وہ آگ لگی ہے کہ بجھائے نہ بنے ہے

کلیم عاجز