میرے رستے میں جو رونق تھی میرے فن کی تھی
میرے گھر میں جو اندھیرا تھا میرا اپنا تھا
کیفی وجدانی
صرف دروازے تلک جا کے ہی لوٹ آیا ہوں
ایسا لگتا ہے کہ صدیوں کا سفر کر آیا
کیفی وجدانی
تو اک قدم بھی جو میری طرف بڑھا دیتا
میں منزلیں تری دہلیز سے ملا دیتا
کیفی وجدانی
زمیں کے زخم سمندر تو بھر نہ پائے گا
یہ کام دیدۂ تر تجھ کو سونپنا ہوگا
کیفی وجدانی
جانے کیا سوچ کے ہم تجھ سے وفا کرتے ہیں
قرض ہے پچھلے جنم کا سو ادا کرتے ہیں
کیلاش ماہر
رشتۂ درد کی میراث ملی ہے ہم کو
ہم ترے نام پہ جینے کی خطا کرتے ہیں
کیلاش ماہر
تم بھی اس شہر میں بن جاؤ گے پتھر جیسے
ہنسنے والا یہاں کوئی ہے نہ رونے والا
کیلاش ماہر

