EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

میرے رستے میں جو رونق تھی میرے فن کی تھی
میرے گھر میں جو اندھیرا تھا میرا اپنا تھا

کیفی وجدانی




صرف دروازے تلک جا کے ہی لوٹ آیا ہوں
ایسا لگتا ہے کہ صدیوں کا سفر کر آیا

کیفی وجدانی




تو اک قدم بھی جو میری طرف بڑھا دیتا
میں منزلیں تری دہلیز سے ملا دیتا

کیفی وجدانی




زمیں کے زخم سمندر تو بھر نہ پائے گا
یہ کام دیدۂ تر تجھ کو سونپنا ہوگا

کیفی وجدانی




جانے کیا سوچ کے ہم تجھ سے وفا کرتے ہیں
قرض ہے پچھلے جنم کا سو ادا کرتے ہیں

کیلاش ماہر




رشتۂ درد کی میراث ملی ہے ہم کو
ہم ترے نام پہ جینے کی خطا کرتے ہیں

کیلاش ماہر




تم بھی اس شہر میں بن جاؤ گے پتھر جیسے
ہنسنے والا یہاں کوئی ہے نہ رونے والا

کیلاش ماہر