رقیب دونوں جہاں میں ذلیل کیوں ہوتا
کسی کے بیچ میں کمبخت اگر نہیں آتا
کیفی حیدرآبادی
صبح کو کھل جائے گا دونوں میں کیا یارانہ ہے
شمع پروانہ کی ہے یا شمع کا پروانہ ہے
کیفی حیدرآبادی
وہی نظر میں ہے لیکن نظر نہیں آتا
سمجھ رہا ہوں سمجھ میں مگر نہیں آتا
کیفی حیدرآبادی
وہ اب کیا خاک آئے ہائے قسمت میں ترسنا تھا
تجھے اے ابر رحمت آج ہی اتنا برسنا تھا
کیفی حیدرآبادی
بچا لیا تری خوشبو کے فرق نے ورنہ
میں تیرے وہم میں تجھ سے لپٹنے والا تھا
کیفی وجدانی
بستی میں غریبوں کی جہاں آگ لگی تھی
سنتے ہیں وہاں ایک نیا شہر بسے گا
کیفی وجدانی
خود ہی اچھالوں پتھر خود ہی سر پر لے لوں
جب چاہوں سونے موسم سے منظر لے لوں
کیفی وجدانی

