EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

رقیب دونوں جہاں میں ذلیل کیوں ہوتا
کسی کے بیچ میں کمبخت اگر نہیں آتا

کیفی حیدرآبادی




صبح کو کھل جائے گا دونوں میں کیا یارانہ ہے
شمع پروانہ کی ہے یا شمع کا پروانہ ہے

کیفی حیدرآبادی




وہی نظر میں ہے لیکن نظر نہیں آتا
سمجھ رہا ہوں سمجھ میں مگر نہیں آتا

کیفی حیدرآبادی




وہ اب کیا خاک آئے ہائے قسمت میں ترسنا تھا
تجھے اے ابر رحمت آج ہی اتنا برسنا تھا

کیفی حیدرآبادی




بچا لیا تری خوشبو کے فرق نے ورنہ
میں تیرے وہم میں تجھ سے لپٹنے والا تھا

کیفی وجدانی




بستی میں غریبوں کی جہاں آگ لگی تھی
سنتے ہیں وہاں ایک نیا شہر بسے گا

کیفی وجدانی




خود ہی اچھالوں پتھر خود ہی سر پر لے لوں
جب چاہوں سونے موسم سے منظر لے لوں

کیفی وجدانی