EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

حقیقتوں کا جلال دیں گے صداقتوں کا جمال دیں گے
تجھے بھی ہم اے غم زمانہ غزل کے سانچے میں ڈھال دیں گے

کلیم عاجز




ادھر آ ہم دکھاتے ہیں غزل کا آئنہ تجھ کو
یہ کس نے کہہ دیا گیسو ترے برہم نہیں پیارے

کلیم عاجز




اک گھر بھی سلامت نہیں اب شہر وفا میں
تو آگ لگانے کو کدھر جائے ہے پیارے

کلیم عاجز




عشق میں موت کا نام ہے زندگی
جس کو جینا ہو مرنا گوارا کرے

کلیم عاجز




کبھی ایسا بھی ہووے ہے روتے روتے
جگر تھام کر مسکرانا پڑے ہے

کلیم عاجز




کل کہتے رہے ہیں وہی کل کہتے رہیں گے
ہر دور میں ہم ان پہ غزل کہتے رہیں گے

کلیم عاجز




کرے ہے عداوت بھی وہ اس ادا سے
لگے ہے کہ جیسے محبت کرے ہے

کلیم عاجز