حقیقتوں کا جلال دیں گے صداقتوں کا جمال دیں گے
تجھے بھی ہم اے غم زمانہ غزل کے سانچے میں ڈھال دیں گے
کلیم عاجز
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
ادھر آ ہم دکھاتے ہیں غزل کا آئنہ تجھ کو
یہ کس نے کہہ دیا گیسو ترے برہم نہیں پیارے
کلیم عاجز
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
اک گھر بھی سلامت نہیں اب شہر وفا میں
تو آگ لگانے کو کدھر جائے ہے پیارے
کلیم عاجز
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
عشق میں موت کا نام ہے زندگی
جس کو جینا ہو مرنا گوارا کرے
کلیم عاجز
کبھی ایسا بھی ہووے ہے روتے روتے
جگر تھام کر مسکرانا پڑے ہے
کلیم عاجز
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
کل کہتے رہے ہیں وہی کل کہتے رہیں گے
ہر دور میں ہم ان پہ غزل کہتے رہیں گے
کلیم عاجز
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
کرے ہے عداوت بھی وہ اس ادا سے
لگے ہے کہ جیسے محبت کرے ہے
کلیم عاجز

