دن ایک ستم ایک ستم رات کرو ہو
وہ دوست ہو دشمن کو بھی تم مات کرو ہو
کلیم عاجز
فن میں نہ معجزہ نہ کرامات چاہئے
دل کو لگے بس ایسی کوئی بات چاہئے
کلیم عاجز
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
غم ہے تو کوئی لطف نہیں بستر گل پر
جی خوش ہے تو کانٹوں پہ بھی آرام بہت ہے
کلیم عاجز
ٹیگز:
| سکون |
| 2 لائنیں شیری |
گزر جائیں گے جب دن گزرے عالم یاد آئیں گے
ہمیں تم یاد آؤ گے تمہیں ہم یاد آئیں گے
کلیم عاجز
ٹیگز:
| یاد |
| 2 لائنیں شیری |
ہاں کچھ بھی تو دیرینہ محبت کا بھرم رکھ
دل سے نہ آ دنیا کو دکھانے کے لئے آ
کلیم عاجز
ہم بھی کچھ اپنے دل کی گرہ کھولنے کو ہیں
کس کس کا آج دیکھیے بند قبا کھلے
کلیم عاجز
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
ہمارے قتل سے قاتل کو تجربہ یہ ہوا
لہو لہو بھی ہے مہندی بھی ہے شراب بھی ہے
کلیم عاجز
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

