EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

دن ایک ستم ایک ستم رات کرو ہو
وہ دوست ہو دشمن کو بھی تم مات کرو ہو

کلیم عاجز




فن میں نہ معجزہ نہ کرامات چاہئے
دل کو لگے بس ایسی کوئی بات چاہئے

کلیم عاجز




غم ہے تو کوئی لطف نہیں بستر گل پر
جی خوش ہے تو کانٹوں پہ بھی آرام بہت ہے

کلیم عاجز




گزر جائیں گے جب دن گزرے عالم یاد آئیں گے
ہمیں تم یاد آؤ گے تمہیں ہم یاد آئیں گے

کلیم عاجز




ہاں کچھ بھی تو دیرینہ محبت کا بھرم رکھ
دل سے نہ آ دنیا کو دکھانے کے لئے آ

کلیم عاجز




ہم بھی کچھ اپنے دل کی گرہ کھولنے کو ہیں
کس کس کا آج دیکھیے بند قبا کھلے

کلیم عاجز




ہمارے قتل سے قاتل کو تجربہ یہ ہوا
لہو لہو بھی ہے مہندی بھی ہے شراب بھی ہے

کلیم عاجز